تو کیا آپ سر اٹھا کے جینے کے لیے تیار ہیں؟

 

مجھے کامیابی کسی نے پلیٹ میں رکھ کے نہیں دی، جب میں پیدا ہوا

تو میرے منہ میں سونے ، چاندی ، سلور، تا مبے یا پیتل کا کوئی پیچ نہیں تھا۔ غربت کی لکیر کے نیچے زندگی گزارنے والے لاکھوں خاندانوں میں سے کسی ایک خاندان میں پیدا ہونا کون سی خوش بختی کی بات سمجھی جا سکتی ہے؟ معاشی پسماندگی کی چکی میں پسنے والے، آٹھ بچوں کو کسمپرسی کی حالت میں پالنے کی ذمہ داری کے بوجھ تلے دبے میرے ماں باپ، جنہوں نے خوشحالی کی کبھی شکل نہ دیکھی۔ اپنی چھوٹی چھوٹی خواہشوں کا گلا گھونٹ کر محرومیوں کی سولی پر چڑھی ہوئی میری ماں ، گڑھتی، ترستی اور لا چار زندگی جیتے جیتے بالآخر ہارگئی۔ میرے باوقار مزدور باپ کے ساتھ شانہ بشانہ مشقتوں کا بوجھ بانٹتے بانٹتے میری ماں اتنا تھک گئی کہ خاموشی سے ہمیشگی کے آرام کو اپنا لیا۔

مجھے بہت بعد میں پتہ چلا کہ ماں کی بیماری لاعلاج نہیں تھی۔ امی کو بروقت ہسپتال نہ پہنچوا سکنا اور صحت کی بنیادی سہولتوں سے محرومی ان کی موت کا سبب بنی۔ سوچتا ہوں امی جلدی ہسپتال پہنچ جاتیں تو شاید اُن کی جان بچ جاتی۔ پھر سوچتا ہوں بھلا ایک گدھا گاڑی آخر کتنی تیز چل سکتی ہوگی۔

@zimlixyz Allah #quran_alkarim #muslim #islamic_videos #allah #viral #fyp ♬ original sound - Ibnu Al-Umm

آج نئے ماڈل کی شاندار گاڑیوں میں گھومتا ہوں تو امی کی بے بسی یاد آتی ہے اور سخت

رلاتی ہے۔ کاش میں اپنی ماں کے لیے اس بے بسی کے لمحے میں کچھ کر سکتا !

لیکن میں تب اتنا چھوٹا تھا کہ یہ تک احساس نہ تھا کہ میں نے کھویا کیا ہے؟ میں اس لیے روتا تھا کہ سب بہن بھائی روتے تھے بلکہ کئی بار تو اس لیے روتا تھا کہ چپ کروانے کے لیے بابا جان سے ٹافی ، ایک بسکٹ یا چند سکتے مل جاتے تھے۔ سوچتا ہوں کاش امی تھوڑا سا انتظار کر لیتیں تو آج میں انہیں دنیا کے سب سے اچھے ہسپتال لے جاتا اور ہر قیمت پر اُن کے لیے خدا سے چند سانسوں کی التجا کرتا۔ بچپن نا آسودگی، پریشانی محرومی اور تنگدستی کی داستان تھا۔ خواہشوں کی جستجو تو دور کی بات، ضرورتوں تک بھی رسائی نہ تھی۔ اپنی پسند کے کپڑے کبھی نہ پہنے، امیر رشتہ داروں کی طرف سے بھیجے گئے پرانے ، استعمال شدہ کپڑے پہن کر گزارہ کیا۔ چمکتے دسکتے الیکٹرانک کھلونوں کی بجائے اپنے ہاتھ سے بنائے مٹی

کے کھلونوں پر ہی اکتفا کیا۔ زندگی میں ہر چیز کی کمی تھی ۔ تنگ دستی ، غربت، بیماری، بے بسی اور مایوسی کا راج تھا۔ زندگی

محرومیوں سے بھری پڑی تھی۔

گھر کا جذباتی ٹمپریچر خطرناک حد تک پہنچ چکا تھا۔ ہاتھ تنگ ہے" کے الفاظ سُن سُن کے کان پک گئے تھے۔ زندگی اُدھار پر چل رہی تھی۔ روز مرہ کے سودہ سلف کے لیے اُدھار، مالک مکان سے اُدھار، دودھ والے سے اُدھار، حتی کہ سکول کی فیس بھی اُدھار۔ ہر مہینے ٹیچر کلاس سے  نکال دیتے جاؤ گھر سے فیس لے کے آؤ۔ گھر سے جواب آتا ابھی پیسے نہیں ہیں کئی بار تنگ آکے گھر میں سے کوئی کہتا ” فیس نہیں ہے۔ ماسٹر صاحب سے کہو ہمارے نام کاٹ دیں“ آج پیچھے مڑ کے دیکھوں تو ان تمام محرومیوں ، تنگدستیوں اور مشکلات کے باوجود مجھے اپنا بچپن یادگار محسوس ہوتا ہے۔ اپنے بہن بھائیوں کے ساتھ مل کر ہم اپنا کھیل کا سامان بھی خود ہی بنا لیتے تھے۔

کبھی پولی تھین کے شاپنگ بیگز اور کپڑوں کو جلا کر ایک سخت قسم کی گیند نما چیز بنائی تو کبھی پرانے کپڑوں اور ٹاکیوں کو سوئی دھاگے سے سی کے کرکٹ کھیلنے کے لیے کچھڈو تیار کیا۔ بہن جس ڈنڈے سے پیٹ پیٹ کر کپڑے دھوتی وہی ہمارا بیٹ بن جاتا۔ کسی درخت پر چڑھ کر اس کی کوئی مضبوط ٹہنی جو آگے سے ذرا مری ہوتی، کائی جاتی اور وہی ہماری ہاکی بن جاتی۔ پرانی کتابیں، پرانے کپڑے، پرانے جوتے، پرانے بیگ ہی ہمارے ساتھی رہے۔ کلاس کے دیگر بچوں کی نئی کتابیں، بیگ، کپڑے اور جوتے دیکھ کر ہمارے اندر نئی آرزوئیں جاگتیں۔ لیکن محرومی کی لوریاں ان آرزوؤں کو پھر سے سُلا دیتیں۔ باقی بچوں کو سکول سائیکل پر آتا جاتا دیکھتے تو بڑی خواہش بڑھتی کہ کاش ایک سائیکل ہمارے پاس بھی ہوتی۔ ہر بار فرسٹ آپنے پر سائیکل دلوانے کا وعدہ تو ہوتا لیکن سکول سے ہائی سکول اور کالج سے یونیورسٹی تک کبھی کسی بھی قسم کی کوئی بھی سواری ہمارا مقدر نہ بن سکی۔

البتہ کچھ پیسے جمع کر کے مہینے میں ایک آدھ بار کرائے کی سائیکل پر سڑکوں سڑک خوب مزے کیے لیکن جیسے جیسے گھنٹہ پورا ہونے کا خیال آتا سارا مزہ کرکرا ہو جاتا۔سائیکل واپس کر کے گھر پیدل آنا بہت ہی برا لگتا تھا۔ لیکن زندگی آگے بڑھتی چلی گئی۔ ماں باپ غریب ضرور تھے لیکن شعور، علم و آگہی اُن میں کوٹ کوٹ کے بھرا تھا۔ ابو نے کبھی سکول کی شکل نہیں دیکھی تھی لیکن اعلیٰ درجے کی شاعری لکھتے تھے۔ اردو زبان پر انہیں اردو دانوں کی طرح عبور حاصل تھا۔ بے سروسامانی اور وسائل کی شدید قلت کے باوجود ان کے لباس، گفتار اور طرز عمل سے وقار جھلکتا۔ محنت ،سچائی اور بلند عزمی، میں نے اُنہی سے سیکھی۔

کامیان کان

پیر

امی خاص طور پر چاہتی تھیں کہ اُن کے بچے پڑھیں، سکول جائیں۔ ابو نے چھ بیٹوں کے ہوتے ہوئے کبھی کسی کو اپنے ساتھ کام میں نہیں لگایا۔ خود مشقتیں جھیلیں لیکن بچوں کو تعلیم کا راستہ

دکھایا۔

اس مقصد کو پانے کے لیے اُنہوں نے لا تعداد قربانیاں دیں۔ میں نے اُنہی سے سیکھا کہ کوئی اعلیٰ مقصد بغیر قربانی دیئے حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ میرے والدین نے بچوں کی تعلیم اور شاندار مستقبل کے لیے کتنی ہی ہجرتیں کیں، کتنے ہی گھر بدلے، کتنے ہی ذرائع آمدن اختیار کیے، کتنے ہی دکھ جھیلے اور کتنی ہی بار بے گھری کی اذیت سہی۔ ان کی قربانیوں کا اندازہ کوئی دوسرا نہیں لگا سکتا۔ وہ جانتے تھے کہ جتنا بڑا مقصد ہو گا اتنی ہی بڑی قربانی دینی ہوگی۔ انہیں یقین تھا کہ جتنی بڑی قربانی ہوگی اتنا ہی بڑا انعام ہو گا۔ ہاں انہیں اس بات کا شاید پتہ نہیں تھا کہ قربانی کے انعامات اور ثمرات آنے پر وہ خود اُن سے مستفید نہیں ہو پائیں گے۔

میں نے اپنے ابو سے سیکھا کہ اس سے فرق نہیں پڑتا کہ ہم زندگی میں کہاں کھڑے ہیں؟ اصل بات یہ ہے کہ ہم نے اب کہاں جانے کا فیصلہ کیا ہے؟ ہمارے فیصلے ہی ہماری تقدیر کا تعین

کرتے ہیں۔ لیہ کے ریتلے ٹیلوں کو چھوڑنے کے فیصلے سے لے کر، ٹوبہ ٹیک سنگھ سے ماہنیا نوالہ اور پھر فاروق آباد تک کی نہ جانے کتنی ہجرتوں کے فیصلوں کے پیچھے ایک ہی مقصد تھا، بچوں کی تعلیم اور بہتر کل کی جستجو ۔ اپنے بہتر کل کی تلاش میں فاروق آباد سے لاہور تک میری پہلی ہجرت بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی تھی ۔

محنت میں عظمت کی چلتی پھرتی مثال میرے امی ابو، تب بھی میرے ہیرو تھے جب بغیر کسی دباؤ کے میں نے سیلز مین کی نوکری کی۔ الیکشن کے دنوں میں کڑکتی دو پہروں میں گاؤں گاؤں پھر کر وال چاکنگ کی۔ انٹر میڈیٹ میں گول میڈل کے باوجود میرا فیکٹری میں مزدوری کرنے میں کبھی عار محسوس نہ کرنا بھی انہیں کی تربیت کا اثر تھا۔ لیکن اپنی کمائی کبھی اُن کی ہتھیلی پر رکھ سکوں ، یہ خوش بختی میرے حصے میں نہ آسکی۔ میرے ابو نے زندگی بھر کسی اور پر انحصار نہ کیا۔ انہوں نے اپنے بل بوتے پر جینے کا سبق مجھے بھی سکھایا۔ میں نے اُن کی زندگی سے نتیجہ اخذ کیا کہ جب تک آپ اپنی زندگی کی 100 فیصد ذمہ داری خود نہیں اُٹھاتے ، زندگی رُکی رہے گی، جامد رہے گی ، آگے نہیں بڑھے گی۔ میں نے اُن سے سیکھا کہ زندگی شکایتیں کرتے رہنے سے نہیں بلکہ ذمہ داری لینے سے بدلتی ہے۔ آدھی ذمہ داری لینے سے آدھی زندگی نہیں بدلتی۔ پوری ذمہ داری لینے سے بھی ساری زندگی نہیں بدلے گی۔ حیران مت ہوں ، شروع میں تھوڑی سی بدلے گی لیکن ذمہ داری اُٹھائے رکھنے سے جلد ہی ساری کی ساری بدل جائے گی۔ اگر کبھی بھی آپ نے زندگی میں شکایات کی ہیں، دوسروں کی وجہ سے خود کے پیچھے رہ جانے کا رونا رویا ہے تو سمجھ جائیے کہ آپ اپنی زندگی کی گاڑی میں ڈرائیونگ سیٹ پر خود بیٹھنے کے لیے ابھی تیار نہیں ہیں۔ میری زندگی غربت کی پگڈنڈیوں سے خوشحالی کی شاہراہ پر کیسے پہنچ گئی ؟ سر جھکا کے جیو کی

چلتی پھرتی مثال نے سر اُٹھا کے جیو کے پیغام کو پھیلانے کا فیصلہ کیسے کر لیا ؟۔ کوئی معجزہ ہوا ؟ معجزہ ہی تو لگتا ہے کیونکہ سفارش نہیں تھی ، بڑے لوگوں سے تعلقات نہیں تھے، پرچی نہیں تھی، سیاستدانوں کی حمایت نہیں تھی ، وزیروں تک دسترس نہیں تھی ، ساتھ چلنے والے لوگ نہیں تھے، یوں کہئے کہ کامیابی کا دروازہ کھولنے کے لیے کوئی بھی صحیح چابی میرے پاس نہیں تھی۔ اثر و رسوخ رکھنے والے رشتہ دار نہیں تھے، ریفرنس بننے والے دوست نہیں تھے۔ فیملی بیک گراؤنڈ نہیں تھی ، پیسے نہیں تھے ، تجربہ نہیں تھا ، قسمت نہیں تھی ، وسائل نہیں تھے ، مواقع نہیں تھے۔ اگر مواقع تھے تو ان سے فائدہ اٹھانے کا سلیقہ نہیں تھا۔ سمجھ نہیں تھی ، شعور نہیں تھا۔ بیچ ہو جھئے تو کچھ بھی نہیں تھا۔

ہاں اگر تھا تو ایک جذبہ تھا، ایک تڑپ تھی، ایک آگ تھی ، ایک جوش تھا، ایک خواب تھا سر اُٹھا کے جینے کا ۔ لیکن کیا یہ جذبہ، تڑپ، آگ، جوش اور خواب کامیابی کی شاہراہ تک لانے ، سر اُٹھا کے جینے کے لیے کافی ہیں؟ سچ تو یہ ہے کہ نہیں ... ہاں یہ سب ضروری بہت تھے ، ان کے غیر کامیابی کو اپنی طرف مائل کرنا مکن نہیں تھا۔لیکن کوئی چیز ہے جو ان سب سے بڑی تھی ، اہم تھی

اور زندگی ساز تھی۔ تو وہ کیا تھی؟

وہ سوچ کی ذراسی تبدیلی تھی ، ایک انداز فکر تھا ، چیزوں کو دیکھنے اور پر کھنے کا ایک نیا زاویہ تھا۔ وہ ایک احساس تھا ، ذمہ داری کا احساس ، جس نے دل میں اس سوچ کو جگہ دی کہ اس وقت میں جہاں بھی ہوں ، جس طرح کی بھی زندگی جی رہا ہوں، اور جو بھی ناکامیاں، مایوسیاں ،ستم ظریفیاں، تنگدستیاں ، نا آسودگیاں اور بد حالیاں میری زندگی کو گھیرے ہوئے ہیں، ان کی ذمہ داری صرف ایک ہی شخص پر عائد ہوتی ہے اور اس کا نام ہے ” قیصر عباس ۔ میرے سر جھکا کے جینے کی ذمہ داری خود میرے اپنے سر ہے۔

میرے والدین ذمہ دار ہیں، نہ معاشرہ، نہ اساتذہ، نہ سکول نہ تعلیمی ادارے، نہ حکومت،

نہ معاشی و اقتصادی صورتحال نہ ہی مہنگائی کا پہاڑ۔ میں نے خود کو سمجھا لیا کہ میری ناکامیوں اور نامرادیوں کے پیچھے نہ امریکہ ہے، نہ ہی آئی اے، نہ را کا کوئی ایجنٹ ہے نہ 9/11 کا واقعہ، نہ اس کی ذمہ داری دہشت گردوں پر ہے، نہ ملک کی سیاسی جماعتوں پر اپنی ناکامی اور شکست کی ذمہ داری صرف اور صرف مجھ ہی پر عائد ہوتی ہے۔ بس میں خود ذمہ دار ہوں۔ آخر میری سوچ میں ایسی تبدیلی آئی کیسے؟

سادہ سی بات ہے، میں نے زندگی کے چوبیس سال ان تمام چیزوں سمیت بے شمار شخصیات، واقعات اور حالات کو اپنے آگے نہ بڑھ سکنے کا قصور وار قرار دے کے دیکھ لیا لیکن کچھ فائدہ نہ ہوا۔ میں نے اپنے علاوہ ہر چیز کو اپنی ناکامی کا ذمہ دار ٹھہرایا، لیکن زندگی نہ بدلی۔ زندگی ٹھہری رہی ، زندگی ناکامیوں سے ہمکنار رہی۔ میں سرجھکا کے جیتا چلا گیا۔ لیکن جس دن میں نے سوچ لیا ، تہیہ کر لیا کہ اپنی زندگی کے بدلنے یا نہ بدلنے کی ذمہ داری میرے سوا کسی اور پر عائد نہیں ہوتی اور نہ ہی اپنے سوا کسی اور کو میں اپنی ناکامی کا الزام دوں گا۔ وہی دن میری زندگی میں ایک

شاندار تبدیلی کا پیامبر ثابت ہوا۔

میں نے خود سے پکاعہد کر لیا کہ میں ہی ذمہ دار ہوں اور جب تک میں ذمہ داری کا حق ادانہیں کروں گا، کچھ نہیں بدلے گا۔میں نے سیکھ لیا،سمجھ لیا کہ میری زندگی میں جو کچھ بھی ہو چکا، اسے کسی نہ کسی طرح میں نے ہی ہونے

کا موقع ، وجہ یا رستہ دیا اور آگے میری زندگی میں جو کچھ بھی ہوگا، اس کی ذمہ داری میں کبھی کسی اور پر عائد نہیں کروں گا۔ میں کھلے دل سے نتائج کو تسلیم کروں گا، واضح ثبوت ہونے کے با وجود کسی اور کی بجائے خود کو ہی ذمہ دار ٹھہراؤں گا۔ اور پھر میں نے ایسا ہی کیا۔ ایسا کرنا بے حد مشکل تھا، آسان نہیں تھا، تلخ تھا، تکلیف دہ تھا۔ کئی بار ایسا کرنا خود کے خلاف اعلان جنگ سے کم نہیں تھا۔ بیشتر دفعہ اندر کی دفاعی فوجیں، پوزیشنیں سنبھال کر خود کے دفاع کا ارادہ کر لیتی تھیں لیکن میں نے توپوں کے رخ خود کی طرف ہی موڑے رکھے۔ مجھے لگا اس طرح ذمہ داری نبھانے سے میں خود کو مار ہی ڈالوں گا۔ خود کو خود ہی کچل دوں گا۔ لیکن وقت نے ثابت کیا کہ ہر بار ذمہ داری لینے کے بعد مجھے خود کی کوئی نہ کوئی خامی، کمزوری اور بہتری کا سراغ مل ہی جاتا۔ یوں میں نے دوسروں کو بدلنے کی بجائے خود کو بدلنےسے سفر کا آغاز کیا اور کمال ہے کہ سفر رائیگاں نہیں گیا، الحمد اللہ !

مثال کے طور پر جب ایک بڑی کمپنی کے ہیومن ریسورس ہیڈ نے میرے رنگ برنگے لباس پر کڑی تنقید کی، مجھےشرمندہ کیا اور میرا مذاق اڑایا اور کہا کہ آپ ہمارے لوگوں کو گرومنگ کی کیا ٹریننگ دیں گے ، آپ کا تو اپنا حلیہ اس قابل نہیں ہے اور ابھی میں یہی باؤنسر سہہ نہ پایا تھا کہ انہوں نے یہ کہہ کر مجھے کلین بولڈ کر دیا کہ ” جناب برامت مانئے گا، آپ ٹریز کم اور جو کر زیادہ لگ رہے ہیں۔“ میرا دل کیا کہ زمین پھٹ جائے اورمیں اس شرمندگی سے بچ جاؤں، کئی دن تک اس کی توہین آمیز آواز میں راتوں کو خوابوںمیں بھی میرے کانوں میں گونجتی رہیں۔ اس بے عزتی کے لیے میں کیسے ذمہ دار ہو سکتا ہوں؟“ بے ساختہ میں نے سوچا۔ ی تو سراسر اس کی زیادتی ہے۔ اس کو احساس کرنا چاہئے تھا۔ اس کو لباس اور حلیے کی بنیاد پر میری شخصیت کا تجز یہ نہیں کرنا چاہئے تھا، اس کو میری قابلیت دیکھنی چاہیے تھی، نہ کہ ظاہری رنگ و روشن ۔ دل نے بہانے گھڑے لیکن جب تک میں الزم، شکایت اور احتجاج کی کیفیت میں رہا، میری زندگی ٹھہری رہی ، رکی رہی، جامد رہی ، ناکام رہی۔ اگلے ہی لمحے میں نے خود سے فیصلہ کن انداز میں کہا ” کچھ بھی ہو، میں ہی ذمہ دار ہوں“

لیکن کیسے ؟ جیسے ہی یہ سوال میں نے اپنے ذہن کے سرچ انجن میں ڈالا ، جواب میں

ہزاروں ویب سائیٹس کھل گئیں۔

و تم اس لیے ذمہ دارہو کہ تمہارے پاس ڈھنگ کے کپڑے نہیں ہیں مگر میں ڈھنگ کے کپڑے افورڈ نہیں کرتا“اگر تم افورڈ نہیں کرتے تو یہ اس کا قصور نہیں“

اگر تم پیسے نہ ہونےکی بیماری کا شکار ہوتو یہ بھی کسی کا قصور نہیں ہے“ اگر تمہیں کپڑے پہنے کی سینس، نہیں تو یہ بھی ذمہ داری تمہاری اپنی ہے۔“ میرے اندر کا ذمہ دارانسان اپنی ذمہ داری نبھانے پر تل گیا تھا۔ اگر تم اُسے اس قابل نہیں لگے کہ وہ تمہارے ساتھ عزت سے پیش آئے تو بھی تم ہی اس کے ذمہ دار ہو۔ ( یہ ذمہ داری لینا سب سے مشکل کام تھا) اس لیے کہ تمہیں پتہ ہونا چاہئے کہ کاروباری دنیا میں لوگ کن باتوں سے ایک دوسرے کو بج کرتے ہیں تمہیں احساس ہونا چاہئے کہ جس چیز کی ٹرینگ تم دوسروں کودینے آئے تھے اس پر تمہیں واقعی مکمل عبور نہیں ہے تمہیں وہ تمام تقاضے پورے کرنےچاہئیں تھے جو ایک کامیاب ٹریز کے لیے ضروری ہیں۔ اور چونکہ تم اسے ایک کامیاب ٹریز نہیں لگے، اس لیے تمہارے ساتھ اس نے وہ سلوک نہیں کیا، جو وہ ایک کامیاب ٹریزکے ساتھ کرتا۔ لہذا اگر تم اسے ایک کامیاب ٹریز نہیں لگے تو بھی یہ تمہارا خود کاقصورہے۔

اگر اس نے تمہیں عزت نہیں دی تو اس کو کم ظرف کہنے سے تمہاری زندگی آگے نہیں بڑھےگی تمہاری زندگی تب آگے بڑھے گی جب تم یہ سیکھ جاؤ گے کہ قابل عزت کیسے لگنا اور بننا ہے؟“ میرا دماغ خیالات، انوکھی سوچوں اور پر جوش احساسات سے بھر گیا۔ اور پھر میں نے سوچا کہ کم پیسوں کے باوجود اپنے لباس شخصیت اور خلیے کو کیسے پروفیشنل رکھنا ہے۔ میں نے سیکھ لیا کہ بے سروسامانی کے باوجود کلائنٹ کے سامنے کیسے خود اعتمادی کے ساتھ بیٹھنا ہے۔ میں نے سیکھا کہ کیسے اپنے اندر کے حالات کے منفی اثرات کو باہر کی دنیا پر بلا وجہ ظاہر ہونے سے روکنا ہے۔ کیسے ایک رکھ رکھاؤ رکھنا ہے۔ پھر واقعی پاکستان کرکٹ بورڈ میں قومی کرکٹ ٹیم کو پیک پر فارمنس کی ٹریننگ دیتے ہوئے

میں نے وہ بھرم قائم رکھا۔ میں سب سے سے پہلے قذافی سٹیدیم پہنچتا اور سب سے بعد میں نکلتا تا کہ کوئی مجھے پیدل یا ویگن میں سگتا ہو کے کھڑا ہوا نہ دیکھ لے۔ جب میں کڑکتی دو پہروں میں پیدل ہی چلتا رہتا تھا لیکن یہ جانتا تھا کہ شدید گرمی میں بھی کارپوریٹ دنیا میں لوگ سوٹ اور ٹائی پہنتے ہیں۔ لہذا میں بھی کوشش کر کے وہی پہنتا تھا اور ملاقات سے پہلے اس کمپنی کے واش روم میں جا کے کتنی ہی دیر اپنے پسینے سکھاتا، حلیہ درست کرتا اور پھر ان کے کانفرنس روم میں ایسے ہی دکھائی دیتا جیسا وہ مجھے دیکھنے کی توقع کرتے تھے۔

میں ہر روز سر اُٹھا کے جینے کا عزم کرتا رہا، زندگی ہر روز بڑی بے دردی سے مجھے پچھاڑتی رہی۔ میں ہر نئی صبح ایک نئے جذبے کے ساتھ نئی منزلوں کی تلاش میں نکل پڑتا۔ زندگی ہر شام میرے قدموں کے ساتھ نا کامیوں کا بوجھ باندھ کر مجھے اپاہج بنانے کی تیاری کرتی رہی۔ ہر نئے دن میں خود کو شاندار کل کی نوید سناتا اور ہر رات میری سسکیوں کی گواہ بنتی ۔ ناکامیاں محرومیاں، جھڑکیاں، افسردگیاں، نامرادیاں، مایوسیاں میرا گھیراؤ کر لیتیں۔

مجھے اپنے مرحوم والد کی شاباش بھری سرگوشیاں خوابوں میں سنائی دیتیں ۔ گر نا بری بات نہیں ہے، گرے رہنا اور دوبارہ نہ اُٹھنابُری بات ہے۔ اگلی صبح میں ناکامیوں کے سارے وار، درد کی ساری ٹیسیں ، حوصلہ شکنی کے سارے جملے بھلا کر سر اُٹھا کے جینے کے عہد کی تجدید کرتا۔ اپنی

 

زندگی کی باگیں اپنے ہاتھوں میں رکھنے کا عزم کرتا اور نکل پڑتا سر اُٹھا کے جینے کے سفر پر۔ ایسا نہیں کہ اگلے ہی دن میرا سفر وسیلہ ظفر بن جاتا۔ اُس دن درد کی شدت پہلے سے بھی بڑھ جاتی۔ شام کو نڈھال، نامراد اور ناکامیوں کے بوجھ سے لدا ہوا کسی بس سٹاپ پہ کھڑا جیب سے ساری جمع پونجی نکال کے گن رہا ہوتا۔ بس میں بیٹھنے کے پیسے پورے نہ ہونے کے باعث کسی انجان منزل کی طرف تھکن سے چور پیدل ہی چل پڑتا۔

رات تک سر اُٹھا کے جینے کی آرزویں آخری سانسوں پہ پہنچ جاتیں۔ پے درپے ناکامیاں جذبوں لگن اور ہمت کو امتحان میں ڈالتیں۔ میں سوچتا آج تو حد ہوگئی۔ میری بس ہو گئی ہے۔ اب اس سے زیادہ نہیں کر سکتا۔ پھر دُور کہیں سے شاباش کی سرگوشیاں، اپنے ساتھ کیے وعدے، اور 764 خواب مجھے اپنی طرف کھینچتے ۔ سر اُٹھا کے جینے کی آرزو ایک بار پھر پوری آب و تاب سے انگڑائی لیتی ، دل ولولے سے بھر جاتا ، آنکھوں میں چمک آجاتی اور جذبوں کو ایک نئی جلامل جاتی اور میں اپنے خوابوں کے تعاقب میں دل و جان سے نکل کھڑا ہوتا۔ پھر ایک دن ایسا آیا جب برسوں کی ریاضتیں رنگ لے آئیں۔ زندگی سر اُٹھا کے جینے کی ڈگر سے شناسا ہوگئی اور بالآخر ایک دن سب کچھ بدل گیا۔ زندگی بدلی تو بہانوں کی زنجیریں توڑنے سے، زندگی نے سر اُٹھا کے جینا شروع کیا تو اپنا بوجھ خود اٹھانے کا فیصلہ کرنے سے، زندگی بہتر ہوئی تو الزامات سے تو بہ کرنے سے، زندگی بدلی تو شکایت کے پلندے کو سمیٹنے سے، ذمہ داری اٹھانے سے، خود انحصاری سے، اپنی ذات پر بھروسہ کرنے سے اور یہ طے کرنے سے کہ 100 فیصد ذمہ داری اُٹھانے سے ہی فرق پڑے گا۔ 99 فیصد ذمہ داری اٹھانے سے کچھ نہیں بدلے گا۔

تو کیا آج سے آپ اپنی زندگی کی 100 فیہ کی 100 فیصد ذمہ داری اُٹھا ئیں گے؟ ۔ یہی تیاری ، یہی عہد ، یہی فیصلہ، یہی تہیہ، یہی عزم در اصل سر اٹھا کے جینے کی طرف آپ کا پہلا قدم ہے۔ تو کیا آپ سر اٹھا کے جینے کے لیے تیار ہیں؟

 

 

 

 

 

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.

#buttons=(Ok, Go it!) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Learn More
Ok, Go it!